ابنا: اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے کہا ہے کہ شام ميں بين الاقوامي مبصرين کا مشن فائربندي پر نگراني کے بجائے متحارب فريقوں کے درميان مذاکرات اور بات چيت کي راہ ہموار کرنے پر مرکوز ہونا چاہئے –
بان کي مون نے اپني ايک رپورٹ ميں اس اميد کا اظہار کيا ہے کہ شام ميں بين الاقوامي مبصرين کے مشن کا دائرہ اور زيادہ وسيع ہوگا- انہوں نے کہا کہ يہ مشن ايسا ہوگا جو بحران کے سفارتي حل کے لئے راستے کو ہموار کرے گا -
اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل نے اپني يہ رپورٹ سلامتي کونسل کے پندرہ ممبر ملکوں کو پيش کي جس سے شام ميں بين الاقوامي مبصرين کے مشن کي مدت کو بڑھانے کے لئے ايک روڈميپ کے طور پر استفادہ کيا جائے گا - بان کي مون نے اپني اس رپورٹ ميں شام ميں تعينات بين الاقوامي مبصرين کي تعداد کو کم کرنے کي تجويز بھي پيش کي ہے -
واضح رہے کہ تين سو سے زائد بين الاقوامي مبصرين گذشتہ اپريل کے مہينے سے شام ميں تعينات ہيں-
يہ مبصرين شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي کوفي عنان کے امن فارمولے کے تحت تعينات کئے گئے ہيں -
اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل نے سلامتي کونسل ميں پيش کردہ اپني رپورٹ ميں کہا کہ غير سرکاري ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس مارچ کے مہينے سے اب تک شام ميں جاري بدامني کے واقعات ميں تيرہ ہزار سے سترہ ہزار تک لوگ مارے گئے ہيں-
انہوں نے ساتھ ہي يہ بھي کہا کہ اقوام متحدہ اس سلسلے ميں صحيح اعداد وشمار کي تصديق نہيں کرسکتي -
دوسري طرف شام کے امور ميں مغربي ملکوں کي فوجي مداخلتوں کي کوششوں کي مخالفت کرتے ہوئے روس نے ايک بار پھر کہا ہے کہ وہ شام ميں ممنوعہ فضائي علاقے کے قيام پر مبني امريکا اور اس کے اتحاديوں کي تجويز کا مخالف ہے-
روس کے نائب وزير خارجہ گنادي گاتيلف نے کہا کہ ہم بارہا يہ کہہ چکے ہيں کہ اس طرح کے اقدامات کا کوئي فائدہ نہيں ہے-
روس کے نائب وزير خارجہ نے کہا کہ اس تجويز کي شام ميں سرگرم بين الاقوامي انسان دوستانہ تنظيموں نے حمايت نہيں کي ہے - روس کے نائب وزير خارجہ نے يہ بيان پيريس ميں شام سے متعلق مغربي ملکوں کے اجلاس کے بعد ديا ہے -
اس اجلاس کے شرکا نے شام ميں ممنوعہ فضائي علاقہ قائم کئے جانے کي تجويز پيش کي تھي اور اجلاس کےدوران کہ جس کا روس اور چين نے بائيکاٹ کيا تھا امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے ماسکو پر الزام لگايا کہ وہ شام ميں بحران کے حل کي کوششوں ميں رکاوٹيں کھڑي کررہا ہے –
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ روس کےنائب وزير خارجہ نے امريکي وزير خارجہ کے بيان کو بلاجواز و بے بنياد قرار ديا اور کہا کہ ان کا بيان جنيوا اجلاس ميں ہونےوالے سمجھوتے کے منافي ہے - ماسکو نے اسي طرح پيريس ميں شام سے متعلق مغربي ملکوں کے اجلاس کو يکطرفہ اور غير اخلاقي قراردےديا ہے-
روسي دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ روس چين اور ديگر ملکوں نے جن کے شام کے ساتھ روايتي اور دوستانہ تعلقات ہيں فرينڈز آف سيريا اجلاس ميں شرکت نہيں کي ہے، کيونکہ ان ملکوں کا خيال ہے کہ اس طرح کا اجلاس سياسي اور اخلاقي اعتبار سے صحيح نہيں ہے-
روسي دفتر خارجہ کےترجمان لوکا شويچ نے کہا کہ شام کي حکومت کے مخالف گروہوں سے امريکا اور اس کے اتحاديوں کي دوستي نے اس ملک ميں خون و خرابے کو ہوا دي ہے –
فرينڈز آف سيريا کے نام سے موسوم پيريس اجلاس جمعے کو منعقد ہوا- امريکا نے چين اور روس پر اس بات کو لے کر تنقيد کي ہے کہ ان ملکوں نے اس اجلاس ميں کيوں شرکت نہيں کي جبکہ روس اور چين نے پہلے ہي اس اجلاس کو غير ضروري قرار ديتے ہوئے اعلان کرديا تھا کہ وہ پيرس اجلاس ميں شرکت نہيں کريں گے -.......
/169